Dailymotion

رکنِ اسمبلی آر ایس پٹھانیہ کی جموں و کشمیر حکومت پر شدید تنقید

ETVBHARAT10/28/2026

About this video

رکنِ اسمبلی آر ایس پٹھانیہ کی جموں و کشمیر حکومت پر شدید تنقید is a video by ETVBHARAT, published on October 28, 2026. Stream it on TubeSearch Pro for a clean, distraction-free viewing experience and explore more related videos from ETVBHARAT below.

Description

<p>جموں (محمد اشرف گنائی)</p><p>مرکز کے زیرِ انتظام علاقے جموں و کشمیر میں نیشنل کانفرنس کی عمر عبداللہ حکومت کی جانب سے کابینہ میں کی گئی توسیع اور ردوبدل پر سخت ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے، بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سینئر رہنما اور رکنِ اسمبلی (ایم ایل اے) آر ایس پٹھانیہ نے حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ای ٹی وی بھارت (ETV Bharat) کے ساتھ ایک خصوصی گفتگو کے دوران آر ایس پٹھانیہ نے اس کابینہ ردوبدل کو محض ایک "ونڈو ڈریسنگ" (ظاہری نمائش) اور عوامی مسائل سے توجہ ہٹانے کی ایک ناکام کوشش قرار دیا۔ بی جے پی رہنما نے نئے شامل ہونے والے وزراء کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ کابینہ میں ردوبدل یا توسیع کرنا نیشنل کانفرنس کا اندرونی معاملہ ہے، لیکن اس اقدام سے حکومت کی ناکامیوں، بدعنوانی اور جوابدہی کے سنگین فقدان کو کسی صورت چھپایا نہیں جا سکتا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت میں بدعنوانی کے خلاف 'زیرو ٹالرنس'، بہتر طرزِ حکمرانی (گورننس) اور انتخابی مہم کے دوران عوام سے کیے گئے بلند بانگ وعدوں پر عمل درآمد کب شروع ہوگا؟</p><p>بی جے پی رہنما رکنِ اسمبلی آر ایس پٹھانیہ نے الزام عائد کیا کہ خود نیشنل کانفرنس کے اندر شدید اندرونی اختلافات اور عدم اطمینان کی آوازیں بلند ہو رہی ہیں اور داچی گام میں منعقدہ پارٹی ایم ایل ایز کی حالیہ میٹنگ کے دوران بھی خود وزراء پر کرپشن کے الزامات سامنے آئے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب پوری حکومت میں جوابدہی کا فقدان ہو اور اہم محکموں میں بدعنوانی پر سوالات کھڑے ہوں، تو محض چہروں یا محکموں کی تبدیلی سے عوام کو کوئی راحت نہیں مل سکتی۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سینئر رہنما اور ایم ایل اے آر ایس پٹھانیہ نے عمر عبداللہ حکومت کی حالیہ کابینہ توسیع پر شدید اعتراضات اٹھاتے ہوئے جموں خطے کی نمائندگی کا معاملہ اٹھایا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ عمر سرکار میں جموں کے عوام اور ان کے منتخب نمائندوں کی کوئی قدر و قیمت نہیں ہے اور اس اہم خطے کے ساتھ مسلسل سیاسی و انتظامی امتیازی سلوک روا رکھا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کابینہ میں عدم توازن صاف ظاہر کرتا ہے کہ حکومت ایک مخصوص خطے تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔</p><p>نیشنل کانفرنس کے سرپرست ڈاکٹر فاروق عبداللہ کے پاکستان کے ساتھ مذاکرات سے متعلق حالیہ بیان پر سخت ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے آر ایس پٹھانیہ نے واضح کیا کہ بی جے پی کا موقف بالکل صاف اور اصولی ہے کہ سرحد پار سے دہشت گردی، بدامنی اور خونریزی کو فروغ دینے والے ملک کے ساتھ کسی بھی قسم کی بات چیت کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ بی جے پی رہنما نے مزید کہا کہ فاروق عبداللہ کی جانب سے ایسے بیانات صرف اور صرف جموں و کشمیر کے اصل بنیادی عوامی مسائل، انتظامی ناکامیوں اور بدعنوانی سے عوام کی توجہ بھٹکانے کے لیے دیے جا رہے ہیں۔ گفتگو کے اختتام پر 27 اکتوبر کی تاریخی اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے بی جے پی رہنما نے کہا کہ یہ دن جموں و کشمیر کے بھارت کے ساتھ کامل الحاق اور وادی کی حفاظت کے لیے بھارتی فوج کے یہاں اترنے کا ایک تاریخی موقع ہے۔ انہوں نے جموں و کشمیر کے موجودہ سیاسی منظرنامے پر بات کرتے ہوئے زور دیا کہ یہاں کے عوام اب کھوکھلی سیاسی نعرے بازی اور لفاظی سے تنگ آ چکے ہیں اور وہ محض بیانات کے بجائے شفاف حکمرانی، روزگار کی فراہمی اور حقیقی ترقی کے خواہاں ہیں۔ </p>